Gratis Versand ab 14,99 €. Mehr Infos.
Bookbot

De oorlog in de Amsterdamse onderwereld

Buchbewertung

Parameter

  • 255 Seiten
  • 9 Lesestunden

Mehr zum Buch

اردو کی نثری اصناف میں افسانے کی اہمیت نمایاں ہے۔ افسانے کا آغاز کہانیوں سے ہوا، جو ہر دور میں لکھی، سنی اور سنائی گئی ہیں۔ کہانی کی تاریخ انسان کی تاریخ کے برابر ہے، کیونکہ انسانی فطرت کہانی سننے اور سنانے کی خواہش رکھتی ہے۔ قدیم دور میں جب زندگی کی مشکلات کم تھیں، کہانی سننا اور سنانا سماج کا حصہ بن گیا۔ چوپالوں، حجروں، اور گھروں میں قصہ خواں کہانیاں سناتے تھے، جو انسانی زندگی کی عکاسی کرتی تھیں یا سننے والوں کو خیالی دنیا میں لے جاتی تھیں۔ آج بھی، مصروفیات کے باوجود، انسان چند لمحے فلم یا ٹی وی ڈرامے دیکھ کر اپنی تفریح کرتا ہے۔ مختلف اوقات میں کہانی کی تعریف مختلف ماہرین نے کی ہے۔ محمد افضل رضا اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ ابتدائی انسان نے اپنے تجربات کو الفاظ کی بجائے اشاروں سے بیان کیا، جس سے کہانی کا آغاز ہوا۔ اس طرح کہانی انسانی تجربات اور مشاہدات کا ایک اہم ذریعہ بنی، جو آج بھی ہماری زندگی کا حصہ ہے۔

Buchkauf

De oorlog in de Amsterdamse onderwereld, Bart Middelburg, Paul Vugts

Sprache
Erscheinungsdatum
2006
product-detail.submit-box.info.binding
(Paperback),
Buchzustand
Gebraucht - Gut
Preis
1,99 €inkl. MwSt.
Kauf dieses Buch für 1 €

Lieferung

  • Gratis Versand ab 14,99 € in ganz Deutschland! Mehr Infos.

Zahlungsmethoden

3,4
Gut
56 Bewertung

Hier könnte deine Bewertung stehen.

Titel
De oorlog in de Amsterdamse onderwereld
Sprache
Niederländisch
Erscheinungsdatum
2006
Einband
Paperback
Seitenzahl
255
ISBN10
9046800903
ISBN13
9789046800904
Reihe
Bewertung
3,4 von 5 Sternen
Beschreibung
اردو کی نثری اصناف میں افسانے کی اہمیت نمایاں ہے۔ افسانے کا آغاز کہانیوں سے ہوا، جو ہر دور میں لکھی، سنی اور سنائی گئی ہیں۔ کہانی کی تاریخ انسان کی تاریخ کے برابر ہے، کیونکہ انسانی فطرت کہانی سننے اور سنانے کی خواہش رکھتی ہے۔ قدیم دور میں جب زندگی کی مشکلات کم تھیں، کہانی سننا اور سنانا سماج کا حصہ بن گیا۔ چوپالوں، حجروں، اور گھروں میں قصہ خواں کہانیاں سناتے تھے، جو انسانی زندگی کی عکاسی کرتی تھیں یا سننے والوں کو خیالی دنیا میں لے جاتی تھیں۔ آج بھی، مصروفیات کے باوجود، انسان چند لمحے فلم یا ٹی وی ڈرامے دیکھ کر اپنی تفریح کرتا ہے۔ مختلف اوقات میں کہانی کی تعریف مختلف ماہرین نے کی ہے۔ محمد افضل رضا اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ ابتدائی انسان نے اپنے تجربات کو الفاظ کی بجائے اشاروں سے بیان کیا، جس سے کہانی کا آغاز ہوا۔ اس طرح کہانی انسانی تجربات اور مشاہدات کا ایک اہم ذریعہ بنی، جو آج بھی ہماری زندگی کا حصہ ہے۔